پیر، 19 دسمبر، 2022

چوہدری پرویز الٰہی کی تازہ پریس کانفرنس پر پی ٹی آء نے طوفان کھڑا کردیا ہے



 چوہدری پرویز الٰہی کی تازہ پریس کانفرنس پر جو پی ٹی آء نے طوفان کھڑا کردیا ہے۔انہیں سوچنا چاہیے کہ چوہدری صاحب پی ٹی آء کے اتحادی ہیں ناکہ انکی جماعت کے رکن۔


اور پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انکے درمیان قائم ہونے والے اتحاد کے محرکات ایک ہیں یا الگ الگ۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں تو اس طرح کے اتحاد کے محرکات صرف ایک ہی نہیں بلکہ الگ الگ بھی ہیں۔ ایک اس طرح ہیں کہ دونوں کے سامنے ن لیگ ہے۔ جس کو روکنے کے لیے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے ہیں۔ جبکہ الگ الگ محرکات اس طرح ہیں کہ پی ٹی آء سمجھتی ہے کہ ان پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کی سب سے بڑی وجہ سابقہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔ اور اسکے برعکس ق لیگ کے پارلیمانی رہنما چوہدری پرویز الٰہی جنرل باجوہ کو اپنا محسن گردانتے ہیں۔ وہ جنرل صاحب کو کسی طرح گنہگار نہیں مانتے۔ اب یہ ایسا اختلاف ہے جس کو جتنی ہوا دی جائیگی اتنا بھڑکتا جائے گا۔ میری نظر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو اکوموڈیٹ کریں تو بہتر رہے گا۔ چوہدری صاحب باجوہ معاملے پر پی ٹی آء کے تحفظات کو اکوموڈیٹ کریں اور پی ٹی آء اس معاملے پر چوہدری صاحب کی پسند نا پسند کو نظر انداز نا کرے تو بہتر ہے۔ تاکہ دونوں جماعتیں استعفوں کو اچھے سے فوکس کر سکیں۔  


0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

سبسکرائب کریں در تبصرے شائع کریں [Atom]

<< ہوم