پیر، 19 دسمبر، 2022

پیٹرول کے نرخوں میں اتار چڑھائو اور لاوارٹ پاکستان عوام۔    


پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو نہ صرف کرائے بڑھتے ہیں بلکہ پیٹرول بڑھی ہوئی قیمتوں کا بہانہ بناکر اشیائے خورد نوش کی قیمتوں سمیت تمام چیزوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کردیا جاتاہے۔ اور حکومت تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو تحفظ بھی دے دیتی ہے۔۔ 

مگر جب پیٹرولیم مصنوعات کے نرخ میں کی آتی ہے تو کیا تب ایسی اشیاء و خدمات کی بڑھی ہوئی قیمتوں کو واپس لیا جاتاہے؟ جی نہیں۔ بالکل بھی نہیں۔ یہاں تک کے عوام کے ووٹ سے بننے والی حکومتوں کو بھی یاد ہی نہیں آتا۔  افسوس جس چیز کی قیمت بڑھنے کا بہانہ بنا کر مہنگائی کی گئی اس چیز کے سستے ہونے پر حکومتیں ستو پی کر سو جاتی ہیں۔ عوام جیسے عوام نہیں کوئی ڈنگر ہو۔ جس پر مہنگائی کا نادر شاہی حکم بس نافذ ہونا ہے۔ ۔۔

چوہدری پرویز الٰہی کی تازہ پریس کانفرنس پر پی ٹی آء نے طوفان کھڑا کردیا ہے



 چوہدری پرویز الٰہی کی تازہ پریس کانفرنس پر جو پی ٹی آء نے طوفان کھڑا کردیا ہے۔انہیں سوچنا چاہیے کہ چوہدری صاحب پی ٹی آء کے اتحادی ہیں ناکہ انکی جماعت کے رکن۔


اور پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ انکے درمیان قائم ہونے والے اتحاد کے محرکات ایک ہیں یا الگ الگ۔ جہاں تک میں دیکھتا ہوں تو اس طرح کے اتحاد کے محرکات صرف ایک ہی نہیں بلکہ الگ الگ بھی ہیں۔ ایک اس طرح ہیں کہ دونوں کے سامنے ن لیگ ہے۔ جس کو روکنے کے لیے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی ضرورت بن گئے ہیں۔ جبکہ الگ الگ محرکات اس طرح ہیں کہ پی ٹی آء سمجھتی ہے کہ ان پر ٹوٹنے والی مصیبتوں کی سب سے بڑی وجہ سابقہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہیں۔ اور اسکے برعکس ق لیگ کے پارلیمانی رہنما چوہدری پرویز الٰہی جنرل باجوہ کو اپنا محسن گردانتے ہیں۔ وہ جنرل صاحب کو کسی طرح گنہگار نہیں مانتے۔ اب یہ ایسا اختلاف ہے جس کو جتنی ہوا دی جائیگی اتنا بھڑکتا جائے گا۔ میری نظر میں دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو اکوموڈیٹ کریں تو بہتر رہے گا۔ چوہدری صاحب باجوہ معاملے پر پی ٹی آء کے تحفظات کو اکوموڈیٹ کریں اور پی ٹی آء اس معاملے پر چوہدری صاحب کی پسند نا پسند کو نظر انداز نا کرے تو بہتر ہے۔ تاکہ دونوں جماعتیں استعفوں کو اچھے سے فوکس کر سکیں۔